جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 18:45
حضرت زینب (س) علم و ایثار، عزم و استقلال کی بے مثال شخصیت ہیں، مولانا محمد معراج رنوی

حوزہ/ امام جمعہ پیرس، چنئی نے خطبۂ جمعہ میں بچیوں کی تربیت سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی روشنی میں کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہزادی زینب (س) کی سیرت محض عقیدت کا موضوع نہیں، بلکہ علم، کردار، حق گوئی، صبر و استقامت اور نسلِ نو کی تربیت کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چنئی، تمل ناڈو/ امام جمعہ پیرس، چنئی، مولانا محمد معراج رنوی نے خطبۂ جمعہ میں حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے آپؑ کی شخصیت کو علم، ایثار، عزم و استقلال اور پختہ ارادے کا بے مثال نمونہ قرار دیا۔

مولانا محمد معراج رنوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں کسی بھی شخصیت کی حیثیت، ہمت، عزم و استقلال اور قوتِ ارادی کا اندازہ اس کے عملی کردار سے لگایا جاتا ہے۔ میدانِ عمل میں انسان کی کارکردگی ہی اس کی شخصیت کو نمایاں کرتی ہے اور اس کے مقام و مرتبے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس اعتبار سے حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا کی ذاتِ گرامی تاریخِ انسانیت میں بے نظیر و بے مثال مقام رکھتی ہے۔

حضرت زینبؑ کے علمی مقام اور معرفت کو واضح کرتے ہوئے امام جمعہ نے امام زین العابدین علیہ السلام کے اس فرمان کو بطورِ دلیل پیش کیا: «يَا عَمَّتَاهُ، أَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ، وَفَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَةٍ»

ترجمہ: اے پھوپھی جان! اللہ کے فضل سے آپ ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی نے تعلیم نہیں دی، اور ایسی فہیم و صاحبِ بصیرت ہیں جنہیں کسی نے سمجھایا نہیں۔

مولانا نے اس فرمان کی روشنی میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علمی مقام، غیر معمولی فہم و فراست اور بلند روحانی مرتبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور آپؑ کی سیرت کو اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا محمد معراج رنوی نے مومنین و مومنات کو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے بالخصوص والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی بچیوں کی تربیت حضرت زینبؑ کی سیرت، علم، حیا، شجاعت، ایثار اور استقامت کی روشنی میں کریں اور انہیں اس عظیم ہستی کی تعلیمات و کردار سے وابستگی اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔

مولانا نے عالمی حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ظالموں کے خاتمے، مظلوموں کی کامیابی اور بالخصوص ملکِ مقدس ایران کی فتح و سربلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورِ پُرنور کے لیے بھی خصوصی دعائیں کیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha